Wednesday, May 24, 2023

عمران خان کے کچھ اہم باتیں


 تحریک انصاف

تحریک انصاف کے کارکنان اور حمایتیوں کیطرح وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کو بھی ضمانت ملنے کے باوجود پھر سے گرفتار کرلیا گیا ہے۔ 


اب ہم پوری طرح جنگل کے قانون کی زد میں ہیں جہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا اصول ہی اصل دستور ہے جبکہ اس (لاقانونیت) کی راہ میں واحد رکاوٹ ہماری عدلیہ ہے۔ 


عدالتِ عظمیٰ کے احکامات کے ساتھ آئین کو بھی نہایت بےرحمی اور ڈھٹائی سے روندا جارہا ہے۔ پولیس کے ذریعے تحریک انصاف کو کچلنے کا سلسلہ جاری ہے اور ہمارے قائدین کو تحریک چھوڑنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ 


انسانی حقوق کا خون سرِعام کیا جارہا ہے، میڈیا کو گلا گھونٹا جاچکا ہے جبکہ سوشل میڈیا کارکنان (ایکٹیویسٹس) کو ڈرانے دھمکانے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ عدالتی احکامات کے باوجود عمران ریاض کو عدالت میں پیش نہیں کیا جارہا۔ اس کے ساتھ شدید گرم موسم میں ہمارے گرفتار کارکن تنگ و تاریک کوٹھریوں میں ٹھونس دیے گئے ہیں جبکہ کئی ایک کو دورانِ حراست بدترین تشدد کا سامنا ہے۔ 


اس یزیدیت کے سامنے سَرنِگوں ہونے کا مطلب بحثیت قوم ہماری موت ہے چنانچہ میں اپنے آخری دَم تک (اس یزیدیت کیخلاف) مزاحمت کروں گا

ہم نے پاکستان میں ”جبری شادیوں“ کے بارے میں تو سُن رکھا تھا مگر تحریک انصاف کیلئے ”جبری علیحدگیوں“ کا ایک نیا عجوبہ متعارف کروایا گیا ہے۔ 


میں تو اس پر بھی حیران ہوں کہ اس ملک سے انسانی حقوق کی تنظیمیں کہاں غائب ہو گئی ہیں

اس مضمون میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ میں نے جنرل عاصم کو بطور ڈی جی آئی ایس آئی استعفیٰ پر مجبور کیا کیونکہ انہوں نے مجھے میری اہلیہ بشریٰ بیگم کی کرپشن کے شواہد (کیسز) دکھائے۔


یہ دعویٰ بالکل غلط ہے۔ جنرل عاصم نے مجھے میری اہلیہ کی کرپشن کے کوئی شواہد دکھائے نہ ہی میں نے انہیں اس بنیاد پر مستعفیٰ ہونے پر مجبور کیا۔

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home